رانا ثناء اللہ کو قادیانیوں کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو قادیانیوں کی حمایت میں بیان دینا مہنگا پڑ گیا ۔مسلم لیگ ق نے صوبائی وزیر کے خلاف قراداد صوبائی اسمبلی میں جمع کروا دی ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر مونس الٰہی کی قیادت میں تمام پارٹی ارکان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی قادیانیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی مذموم کوشش آئین سے بغاوت ہے۔
مجوزہ قرارداد کے مطابق صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی ایک نیوز چینل پر قادیانیوں سے متعلق حالیہ گفتگو پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے جس سے پوری امت مسلمہ کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے اس ناقابل معافی بیان سے نہ صرف عرش معلی تک ہل گیا ہو گا بلکہ آقائے دو جہاں سرور کونین جناب سیدنا محمد کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بھی گنبد خضریٰ میں دکھا ہو گا، ختم نبوت ﷺ کا عقیدہ عین ایمان ہے جس کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں ہیں، ہماری عزت حضور اکرم ﷺ کی وجہ سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صدق دل سے عزت کرتا ہے وہی ہمارا ہے، ختم نبوتﷺ کے دفاع کیلئے ہی جنگ یمامہ میں 1200 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قربانی دی، 1974ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا، 1984ء میں صدارتی آرڈیننس کے تحت قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال نہ کرنے کا پابند بنایا گیا جبکہ رانا ثناء اللہ نے اپنی گفتگو میں آئین پاکستان سے بغاوت کا ناقابل معافی جرم سرزد کرتے ہوئے ان کو مسلمان ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
بدیں وجوہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت رانا ثناء اللہ سے فی الفور وضاحت طلب کرے کہ وہ کس طرح ختم نبوتﷺ سے انحراف کرنے والوں کو مسلمان قرار دے رہے ہیں اور ان کے اس بیان کے پیچھے کیا مذموم مقاصد کارفرما ہیں؟ قرارداد مونس الٰہی، عامر سلطان چیمہ، احمد شاہ کھگہ، ڈاکٹر محمد افضل، وقاص حسن موکل، سردار آصف نکئی، باسمہ چودھری اور خدیجہ عمر کی جانب سے پیش کی گئی۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں