این اے 120 کے ابتدائی نتائج میں یاسمین راشد آگے اور کلثوم نوازپیچھے

لاہور میں حلقہ این اے 120 میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 23 گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول سنت نگر میں تحریک انصاف نے 648 ووٹ حاصل کیے جب کہ مسلم لیگ نے 247 ووٹ لیے ہیں۔
پولنگ کے آخری گھنٹے میں ووٹرز کا بہت رش دیکھنے میں آیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ادھر فاطمہ جناح میڈیکل کالج پولنگ اسٹیشن پر سیاسی کارکنوں میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور پی ٹی آئی اور (ن) لیگی کارکنوں میں تصادم ہوگیا۔ دونوں جماعتوں کے ورکرز نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور لاتوں گھونسوں کی بارش کردی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بند روڈ اور دیو سماج روڈ پر بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
دونوں جماعتوں کے ورکرز کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی اور گالم گلوچ بھی کی گئی۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے رینجرز اور پولیس کی نفری طلب کرلی گئی اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو کیمپوں میں دھکیل دیا گیا۔ فوج نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی یا تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
الیکشن میں معمر اور معذور افراد نے بھی ووٹ ڈالا جبکہ پولنگ کے دوران پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ ووٹرز کو جامع تلاشی کے بعد پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے دیا گیا اور شناختی کارڈ کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ موبائل فون بھی ساتھ نہیں لے جانے دیا گیا۔ حلقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور فوج نے مشترکہ گشت کیا۔
حلقے کے 3 لاکھ 21 ہزار 786 ووٹروں کیلئے 220 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 79 ہزار 642 اور خواتین ووٹرزکی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار 144 ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج و رینجرز تعینات رہی جب کہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ۔ فوجی جوان آج رات بھر پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہیں گے۔
(ن) لیگ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد امیدوار ہیں، پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے امیدوار ضیا الدین انصاری سمیت 44 امیدوار میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پریذائیڈنگ افسران کو پولنگ کے بعد نتائج فوری جمع کرانے کا حکم دیا ہے، 39 پولنگ اسٹیشنوں پر آزمائشی بنیادوں پر بائیومیٹرک مشینوں کا استعمال کیا گیا اور ووٹرز کو گوگل میپ کے ذریعے بھی اپنے پولنگ بوتھ کو تلاش کرنے کی سہولت فراہم کی گئی جب کہ حلقے میں 70 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں