ایک شخص کا سر دوسرے شخص کے دھڑ پر لگا دیا گیا

ایک 36 سالہ شخص دنیا کا پہلا انسان بن گیا جس کا سر کسی اور شخص کے دھڑ پر لگا دیا گیا یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا آپریشن اور میڈیکل سائنس کی دنیا میں نہایت انقلابی قدم قرار دیا جا ریا ہے۔اس کامیاب آپریشن کے لئے سرجنوں کی 19گھنٹے کی طویل محنت شامل تھی۔ پال ہارنر نامی شخص جس کو پانچ سال پہلے ہڈیوں کے کینسر کی بیماری لاحق ہو گئی تھی اور یہ متاثرہ شخص موت کے دہانے پر پہنچ گیاتھا تبھی ایک بے حد منفرد خطرناک آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ڈاکٹر ٹام ڈوہنی جوکہ آپریشن کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے اُنھوںنے اخباری نمائندوں کو بتایا ہم اس آپریش کے نتائج کے بارے میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ہم نے ایک شخص کو ایک مکمل نیا جسم دے دیا۔یہ آپریشن فروری کے مہینے میں کیا گیاتھا مگر اس کی مکمل کامیابی جانچنے کے بعد ہی اس خبر کو لوگوں تک پہنچایا گیا۔ڈاکٹرز کا مزید کہنا تھا متاثرہ شخص کا جسم دوسال میں پوری کام کرنے لگے گا۔آپریشن سے پہلے ہارنر کاجسم بیماری کی وجہ سے ختم ہو چکا تھا وہ ایک ماہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا تھا پھر ہمیں اکیس سال کا لڑکا ملا جس کاسر ایک حادثے کے نتیجے میں ختم ہو چکا تھا سکے والدین سے اجازت لے کر ا ٓپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہارنر 85%تک صحیح کا کام کر رہا ہے چلنا ،باتین کرنا اور زندگی کی تمام نارمل چیزوں کو ایک عام آدمی کی طرح استعمال کرنا شروع دیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں