مستقبل میں پاکستان کے دوروپے ایک امریکی ڈالر کے برابر ہو جائیں گے

صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن پنجاب سید رضا علی گیلانی نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کی ضمانت ہے اور سی پیک کی کامیابی سے مستقبل میں پاکستان کے دو روپے امریکہ کے ایک ڈالر کے برابر ہوں گے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ اور مطالعہ پاکستان کے زیر اہتمام ’چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک)کے سیاسی ، اقتصادی اور سماجی پہلو‘کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی الرازی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر قائمقام وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرمحمد تقی زاہد بٹ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر شاہد سرویہ ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز اور چیئرمین شعبہ تاریخ اور مطالعہ پاکستان پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چائولہ، وائس چانسلر بینظیربھٹو شہید یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ ، ڈائریکٹر ہسٹری ڈیپارٹمنٹ نانجنگ یونیورسٹی چین پروفیسر ڈاکٹر یو وین جی، وائس پریذیڈنٹ نانجنگ یونیورسٹی زیانلن کیمپس پروفیسر ڈاکٹر زو چنگبائو ،ڈاکٹر محبوب حسین، ملکی و غیر ملکی محققین ، فیکلٹی ممبران اور طلبائو طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس میں پنجاب یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تقی زاہد بٹ نے پنجاب یونیورسٹی میں سی پیک انٹی گریٹڈ سٹڈی سنٹر کے قیام کا اعلان کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ سی پیک کثیر الجہتی منصوبہ ہے اور پاکستان کے ہر حصے کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک مضبوط اکنامک یونٹ قائم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 2004 میں حکومت نے اس سڑک پر ایک تحقیق کرائی تھی جس کی فائنڈنگز میں کہا گیا کہ اس سڑک سے حاصل ہونے والی صرف ٹال ٹیکس سے ہی اتنی رقم حاصل ہو جائے گی جو کہ اس وقت پاکستان کے کل بجٹ کے برابر تھی اور اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ منصوبے کی کامیابی کے بعد مستقبل میں پاکستان کے دو روپے امریکہ کے ایک ڈالر کے برابر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھ رکھا ہے اور سی پیک کے صورت میں ان کے خواب کی تکمیل نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی آبی بندرگاہ میں 67 برتھیں ہیں جبکہ گوادر میں 120 برتھیں ہیں یعنی متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں تقریباًً دگنا سمندری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں جس سے پاکستان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر رہا ہے تاہم بدقسمتی سے چند لوگ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے سی پیک کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے لئے کئی ملکوں سے ٹکرا رہا ہے جو پاکستان اور چین کے مابین بڑھتے ہوائے تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو پہلے نمبر کی انٹیلی جنس ایجنسی مانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی قوم دنیا کی نمبر ون ذہین ترین قوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم تیسرے درجے کے ملک میں شمار نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا مستقبل اب پاکستان سے ہے اور پاکستان دنیا کا مستقبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چار پانچ سالوں میں پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تقی زاہد بٹ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں سی پیک انٹی گریٹڈسٹڈی سنٹر قائم کر دیا گیا ہے جو کہ پاکستان اور چین کے مابین علمی وفود کے تبادلے کے ذریعے تعلقات کو مزید فروغ دے گا اور سی پیک سے متعلق مختلف موضوعات پر سائنسی تحقیق کی جائے گی۔
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شاہد سرویہ نے کہا کہ سی پیک ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں دو اہم چیلنجز ہیں ایک تو تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنا اور دوسرا ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ان دونوں شعبوں میں سنجیدگی سے کام کر رہا ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی یونیورسٹیز قائم کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن چین کی یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدوں پر بھی دستخط کر رہا ہے۔ نین جنگ یونیورسٹی کے نائب صدر ڈاکٹر زو چنگ پاو نے کہا کہ اس کانفرنس میں ہم مختلف تعلیمی امور پر بحث کریں گے اور دو عظیم ہمسائیوں میں تعلقات کے مزید فروغ کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ، تاریخ، ثقافت وغیرہ کے شعبوں میں ملک کر کام کرنا چاہئے۔
اپنے خطاب میں رضیہ سلطانہ نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں بلکہ حقیقتاًً گیم چینجر ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان کے چار شعبوں کو غیر مثالی ترقی ملے گی جن میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، انرجی سیکٹر، انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اور گوادر پورٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ سے بھی خطیر رقم حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے معاملے پر حکومت کو تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں رکھنا چاہئے اور ملک میں امن کو قائم رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مضبوط ہونے سے پاکستان مضبوط ہو گا۔ ڈین پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاولہ نے کہا کہ کانفرنس میں چین، برطانیہ، پولینڈ، آسٹریلیا اور پاکستان کے مختلف حصوں سے محققین شرکت کر رہے ہیں اور سی پیک کی اہمیت اور افادیت پر ایک دوسرے سے خیالات اور تحقیقات کا تبادلہ کریں گے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں