شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کی گاڑی میں پولیس اہلکار کامران خودکش بمبار تھا

سی ٹی ڈی سول لائن کے ہاتھوں کورنگی مہران ٹاون سے ہلاک دہشت گرد دلدار چاچا کے 4ساتھیوں نے دوران تفتیش سنسی خیز انکشافات کئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گردوں نے انکشاف کیا کہ شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کی گاڑی میں پولیس اہلکار کامران خودکش بمبار تھا، گرفتار دہشت گردوں کے سنسنی خیز انکشافات پر پولیس حکام میں کھلبلی مچ گئی۔
ایس ایس پی چوہدری اسلم کی گاڑی کو بہانے سے ورکشاپ کا کہہ کر لے جایا گیا تھاجبکہ گاڑی ورکشاپ کی بجائے دہشت گردوں کی مکیں گاہ لے جائی گئی تھی اور یہاں گاڑی کے دروازوں اور نیچے بارود نصب کیا گیا تھا، پولیس کے بھیس میں موجود دہشت گرد نے کالعدم دہشت گرد جماعت کے امیر نعیم بخاری سے 5 کر وڑ روپے لئے تھے۔ بارود لگانے کے بعد کامران نے اپنے ہم نام دوسرے ڈرائیور کو بلانے کی کوشش کی، دوسر ے ڈرائیور کے نہ آنے پر مجبورا وہ خود گاڑی میں سوار ہوگیا،تفتیشی ذرائع کاکہنا ہے کہ شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کی گاڑی عیسی نگری سے ایکسپریس وے پر داخل ہوتے ہی دہشت گرد نے ریموٹ سے دھماکہ کردیا۔
تفتیشی ذرائع پولیس اہلکا ر کامران دہشت گرد نعیم بخاری گروہ کا کمانڈر تھا،گرفتار دہشت گردوں کے انکشافات کے پہلے تک کامران کو شہادت کا درجہ حاصل تھا، پولیس کی جانب سے اہلکار کامران کے دو بھائیوں کو پولیس میں ملازم اور لاکھوں روپے معاوضہ بھی دیا گیا تھا اورڈیفنس میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کے گھر پر بارود سے بھری گاڑی بھی کامران کی مدد سے ٹکرائی گئی تھی۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں