بینظیر قتل کیس کا فیصلہ آگیا

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 10سال بعد بینظیر قتل کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری جبکہ جیل میں قید 5ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 9سال7ماہ بعد بینظیر قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔کیس کا فیصلہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے سنایا۔
سابق صدر جنرل مشرف کو اس کیس میں اشتہاری قرار دے کر انکی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا گیا۔جبکہ جیل میں قید 5ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ملزمان پر بینظیر قتل کیس میں سہولت کار ہونے کا الزام تھا۔بری ہونے والےملزمان مین رفاقت ،حسنین، اعتزاز، رشید اور شیر زمان شامل ہیں۔پانچوں ملزمان کو ثبوت نہ ہونے پر نو سال بعد رہا کر دیا گیا۔سابق سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیے گئے۔
خرم شہزاد اور سعودعزیز کو 17سال قید اور 5 لاکھ جرمانے کی سزادی گئی ۔یاد رہے کہ دس سال قبل 27دسمبر 2007کو لیاقت باغ جلسے کے بعد بینظیر بھٹو کو ایک دھماکے میں شہید کر دیا گیا تھا۔بینظیر کے علاوہ اس واقعہ میں 22لوگ شہید جبکہ 70سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔29فروری 2008میں کیس کا ٹرائل شروع کیا گیا تھا جس کا فیصلہ آج سنایا گیا ہے۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں