پاکستان کا وہ صدر جس نے کعبہ شریف میں نماز کی امامت کروائی

جنرل ضیاء الحق پاکستان کے وہ واحد سربراہ مملکت تھے جنہوں نے صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود کوئی شخصی مفاد حاصل نہیں کیاانہوں نے اسلام آباد میں جو مکان بنوایا تھا وہ بھی بینک سے قرض لے کر بنوایا اور قرض کی قسطیں اپنی تنخواہ سے کٹواتے رہے اور نہ ہی ان کا کوئی بنک بیلنس تھا ۔جنرل ضیاء الحق کو خانہ کعبہ میں امامت کروانے کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب عین نماز کے وقت امامکعبہ امامت کے مصلے سے یہ کہتے ہوئے ہٹ گئے کہ مسلمانوں کے امام تو جنرل صاحب آپ ہیں آپ امامت کروائیں پھر جب انہوں نے نماز میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کی تو آنکھوں سے آنسووں کی جھڑیاں اور ہچکیاں بندھ گئیں جنرل صاحب خود بھی روئے اور ان کی اقداء میں نماز پڑھنے والوں پر بھی رقعت طاری ہوگئی ۔پھر ایک مرتبہ آپ مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے ۔ تو گورنر مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ اگر روضہ رسول ﷺ کے اندرجانے کے لیے انہیں بلاوا آئے تو وہ انہیں بھی ساتھ اندر لے جائیں جنرل صاحب نے کہا آپ تو مدینہ کے گورنر ہیں آپ جب چاہیں روضہ رسول میں جاسکتے ہیں گورنر مدینہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ وہی شخص روضہ مبارک کے اندر جاسکتا ہے جس کو خود نبی کریم ﷺ بلاتے ہیں ۔چنانچہ بلاوا آنے پر روضہ مبارک کا درواز ہ کھول دیاگیا اور جنرل صاحب گورنر مدینہ اور رفقاء کے ساتھ روضہ مبارک کے اندر گئے اور اتنا روئے اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی امت مسلمہ اور پاکستان کے لیے دعا کرکے جب جنرل ضیا ء الحق روضہ مبارک سے باہر نکلنے لگے تو روضہ اطہر کے دروازے کے چابی برداروں نے جنرل صاحب کا بازو پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ دوبارہ حضور ﷺ کے روضہ مبارک کے اندر جائیں اور سلام عرض کریں اس طرح جنرل ضیاء الحق واحد مسلمان حکمران ہیں جنہیں ایک ہی روزمیں دو مرتبہ روضہ رسول ﷺ کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔یہی نہیں دو مرتبہ نبی کریم ﷺ کا پیغام جنرل ضیاء الحق کو پہنچایا گیا ایک مرتبہ مولانا فقیر محمد( جو ولی کامل کے مرتبے پر فائز ہیں ) مدینہ شریف میں روضہ مبارک پر مراقبہ ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جنرل ضیاء الحق کو میرا سلام پہنچا دو او ران سے یہ بھی کہہ دو کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں دیر نہ کریں ۔پاکستان واپسی پر یہ پیغام مولانافقیر محمد نے جب جنرل ضیاء الحق کو پہنچایا تو جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی رہی یہی وجہ ہے کہ وہ نفاذ اسلام کے لیے بہت جلدی میں تھے ۔ یہ واقعہ جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت سے آٹھ ماہ پہلے کا ہے ۔دنیا میں کوئی شخص ایسانہیں جس کے سب حمایتی ہوں اور مخالف کوئی نہ ہو ۔ جنرل محمد ضیاء الحق کا شمار بھی ایسے ہی انسانوں میں ہوتا ہے لیکن انہوں نے اپنے گیارہ سالہ دور حکومت میں پاکستاناور دنیا کی تاریخ پر ایسے خوشگوار اثرات مرتب کیے ہیں جن کا ذکر کیے بغیر پاکستانی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ۔ناقدین کے خیال میں وہ ایک فوجی آمر تھے انہوں نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس بھٹو دور کو جمہوری قرار دیا جاتا ہے وہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا آمرانہ دور تھا بھٹو صاحب نے روٹی کپڑا مکان کانعرہ لگا کر پاکستانی عوام کو خوب بیوقوف بنایا ۔ وہاختلاف رائے کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے اختلاف کرنے والے کا تعلق ان کی اپنی پارٹی ہو یا دیگر سیاسی جماعتوں سے وہ ان کی زبان گدی سے کھینچ لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ دلائی کیمپ ٗ شاہی قلعے کے عقوبت خانے ٗ سی آئی اے کے اذیت خانوں میں علمائے کرام اور مخالف سیاست دانوں پر اذیت ناک مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اسے دیکھ کر بھٹو دور کو جمہوری کہنا میری نظر میں سب سے بڑا گناہ ہے ۔بھٹو سب سےبڑا آمر ٗظالم اور غاصب انسان تھا اور تاریخ میں اس کا یہ کردار کبھی بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا جنرل ضیاء الحق کو اپنے گیارہ سالہ دور میں بے پناہ قومی اور بین الاقوامی مسائل اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ۔ سب سے پہلے تو سوویت یونین جو دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور تھی اس نے لاکھوں کی تعداد میں جدید ترین اسلحے سے لیس اپنی فوجیں داخل کرکے افغانستان پر قبضہ کرلیا یہ قبضہ صرف افغانستان تک ہی محدو د نہیں تھا بلکہاس قبضے کی اگلی منزل پاکستان اور بحیرہ عرب کا سمندر تھا جس پر قابض ہوکر سوویت یونین مشرق وسطی اور ایشیا پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھ رہا تھا ۔اس کے باوجود کہ جنرل محمد ضیاء الحق سوویت یونین کے مقابلے میں بہت چھوٹے ملک “پاکستان”کے صدر تھے اور پاکستان اس وقت اندورنی خلفشار کے علاوہ عسکری اعتبار سے بھی قابل ذکر ملک تصور نہیں کیاجاتا تھا کیونکہ 1971ء میں بھارت نے سوویت یونین اورامریکی اشیر باد سے پاکستان کو دو لخت کرکے اور 90 ہزار فوجیوں کو بھارتی جیلوں میں قید کرکے ذہنی طور پر پاکستان کو مفلوج کردیا تھا ایک طرف یہ شکست تو دوسری جانب سوویت یونین سے براہ راست ٹکر لینے کا فیصلہ بہت مشکل مرحلہ تھا لیکن جنرل محمد ضیاء الحق نے “مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ” کے مصداق سوویت یونین کے سامنے ترنوالہ بننے کی بجائے سرزمین افغانستان میں ہی اس کے ساتھ دو دوہاتھ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔یہ فیصلہ اس قدر مشکل اور دشوار تھا کہ بڑے بڑوں کے پتے پانی ہوچکے تھے لیکن طارق بن زیاد اور سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے غیو ر مسلمان سپہ سالاروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنر ل محمد ضیاء الحق نے آٹھ سال میں سوویت یونین کو شکست فاش دے کر ثابت کردیا کہ اگر اﷲ کی تائید و حمایت شامل حال ہو اور ایمان بھی پختہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں