بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے،30 افراد ہلاک 300 سے زائد زخمی، کرفیو نافذ ، فوج طلب کر لی گئی

بھارتی مذہبی رہنما گرمیت رام رحیم سنگھ کو جنسی زیادتی کیس میں مجرم قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے بعد بھارت بھر میں خصوصاً پنجاب میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں ، ہنگاموں کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں ۔ مشتعل افراد نے درجنوں پٹرول پمپس ، دکانیں اور سرکاری املاک جلا دی ہیں ۔حکومت نے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لئے فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ڈیرہ سچا سودا کے روحانی پیشوا گرمیت رام رحیم سنگھ کی جنسی زیادتی کیس میں گرفتاری کے بعد ہریانہ، سرسا، پٹیالہ، فاضلکا، فیروز پور، مانسا، فرید کوٹ اور بھٹنڈا میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد روحانی پیشوا کے پیروکاروں میں غصہ امڈ آیا ہے اور انہوں نے مشتعل ہو کر ہنگامے شروع کر دیئے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت دہلی میںمتعدد بسوں کو جلا دیا گیا۔پرتشدد مظاہروں میں اب تک 17افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 200سے زیادہ زخمی ہیں جنہیں پنچکولا کے جنرل اسپتال میں طبی امداد کیلیے داخل کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر بھارتی حکومت کی جانب سے ہریانا، چندی گڑھ اور پنجاب کے مختلف علا قوں میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس بھی بند کر دی ہے۔مظاہرین نے متعدد بسیں، عوامی مقامات اور پٹرول پمپس کو جلا دیا ہے جس کے بعد حکومت نے فوج کی مدد طلب کر لی ہے.
واضح رہے کی 2002میں گرمیت رام رحیم سنگھ پر دو عقیدت مندخواتین سے جنسی زیادتی کا الزام لگا تھا۔ جس پر 15برس بعد آج سی بی آئی عدالت نے روحانی پیشوا پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے گرفتار کر کے امبالہ جیل بھجوا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں