عائشہ گلا لئی کے خلاف پورے ملک کے خواجہ سرا اٹھ کھڑے ہوئے.

تحریک انصاف کو چھوڑنے والی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلا لئی نے پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں عمران خان کی جانب ستے خواتین کو مخاطب کرنے کےلئے استعمال کیے گئے الفاظ “میری خواتین ” پر اعتراض بلند کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ” کیا ان خواتین کے ساتھ آئے ہوئے سارے مرد ہیجڑے ہیں ” . اس خطاب میں برتی گئی لفظی بے احتیاطی یا انھیں خاتون کے منہ سے ادا کیے جانے کا اخلاقی پہلو تو ایک طرف لیکن اس خطاب نے ملک کے خواجہ سرا طبقے کو سیخ پا کر دیا ہے.

عائشہ گلالئی کے اس خطاب کے بعد خواجہ سرا کمیونٹی آگ بگولہ ہوگئی ہے اور انہوں نے ممبر قومی اسمبلی کے خلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دے دی ہے.خواجہ سرا اتحادکی جانب سے جاری بیان میں ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر نظر ثانی کریں اور معافی مانگیں ورنہ ہم ان کے گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے.خواجہ سرا اتحاد کا مزید کہنا تھا کہ ممبر قومی اسمبلی کو اپنے بیان پر شرم آنی چاہیے انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی مخصوص جنس کو اس کی جنسی خصوصیات، طور اطوار اور دیگر معاملات پر تنقید کا نشانہ بنائیں

. اگر عائشہ گلالئی نے اپنے بیان کی وضاحت نہ دی تو ہم ان کے گھر کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے. ابتدائی طور پر خواجہ سرا اتحاد نے عائشہ گلالئی کے خلاف سوشل میڈیا پر احتجاج کا آغاز کردیا ہے جبکہ پاکستانی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتجاج میں ہمارا ساتھ دیں.ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق خواجہ سرا حقوق کے لئے قائم تنظیم بلیو وائنز خیبر پختونخواہ کے پروگرام کو آرڈینیٹر قمر نے عائشہ گلالئی کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے ایسے بیانات خواجہ سراؤں میں مایوسی پھیلاتے ہیں.یہ ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ قومی اسمبلی میں ایک ایم این اے نے خواجہ سراؤں کی تضحیک کی ہے.عائشہ گلالئی کا بیان خواجہ سراؤں کے لئے نفرت پھیلانے کا مئو جب ہے اور اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ خواجہ سرا نکمے اور کسی بھی صلاحیت کے مالک نہیں ہوتے. ممبر قومی اسمبلی کو اپنے بیان پر فوری معذرت کرنے چاہیے اور آئندہ ایسے بیانات سے باز رہنا ہوگا.

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں