بارسلونا میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام

بارسلونا میں ہونے والے حملے میں ملوث اہم مشتبہ اہم شخص موسی ابو بکر سپین ہی میں ہونے والے ایک دوسرے حملے میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا ۔ پولیس کے مطابق موسی ابو بکر کیمبرلز میں ہونے والے حملے میں مارے جانے والے پانچ مشتبہ افراد میں شامل تھا ۔ اس سے قبل پولیس کا کہنا تھا کہ موسی ابو بکر اور تین دیگر افراد کو تلاش کررہی ہے۔
اس کے علاوہ چار دیگر مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ بارسلونا میں ہونے والے حملے میں 13 افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک وین جس کہ بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسے ابوبکر نے کرائے پر حاصل کیا تھا پیدل چلنے والے افراد پر چڑھ گئی۔ پولیس کے مطابق سپین میں ہونے والے دو حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔13 افراد بارسلونا میں مارے گئے تھے کیمبزلز میں زخمی ہونے والی خاتون بھی دم توڑ گئیں تھیں ۔
بارسلونا حملے کی ذمہ داری خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کرنے کا دعوی کیا ہے۔ہسپانوی میڈیا نے 18سالہ موسی ابوبکر کو مشتبہ شخص بتایا تھا ۔ موسی ابو بکر ، دریس ابوبکر کے بھائی ہیں ۔ جن کے کاغذات مبینہ طور پر حملے میں استعمال کی جانے والی وین کو کرائے پر حاصل کرنے کئے لیے استعمال کیے گئے تھے ۔ پولیس کے مطابق مارے جانے والے پانچ افراد کا شہر بارسلونا میں ہونے والے حملے تھا ۔
سپین کے وزیر اعظم نے اس واقع کو جہادیوں کا حملہ قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس حملے کے بعد تین روز سوگ کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے بیان کے مطابق دہشت گرد ایک دوسرا حملہ کرنے کا ارادہ کھتے تھے۔پولیس کا کہنا ہے حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھڑی بیلٹس پہنی ہوئی تھیں ۔ کیٹلن ایمرجینسی سروسز کا کہنا ہے جمعے کو ہونے والے اس دوسرے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت سات افراد زخمی ہوئے ۔
جن میں سے ایک شخص کی حالت نازک ہے۔ حکام بارسلونا اور کیمبزلز کے حملوں کے تانے بانے ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے جوڑتے ہیں َ جس میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا ۔ پولیس نے لوگو ں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلے جبکہ کیمبرلز کی بندرگاہپر گولیا ں چلنے کی آوازیں سنائی گئی ہیں سپین کے میڈیا کے مطابق کیمبرلز میں بھی حملہ آوروں نے جمعے کی صبح ایک گاڑی سے لوگوں کو کچلنے کی کوشش کی اور کئی لوگ زخمی ہوئے ۔
یہ حملہ بالکل بارسلونا حملہ کی طرز پر تھا ۔ اس سے پہلے بارسلونا حملے کے شہبیمیں پولیس نے دو افراد کو گرفتا کیا ہے تاہم ان دونوں میں کوئی بھی اس وین کا درائیور نہیں تھا ۔ جو گاڑی سے نکل کر پیدل فرار ہوا ۔ پولیس تاحال اس حملہ آوروں کو تلاش میں ہے دولت اسلامیہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوے کہا یہ اس کے فوجیوں کی کاروائی تھی ۔ ایک دوسرے واقعے میں بارسلونا کے نواحی علاقے میں پولیس ایک چیک پوسٹ پر ایک شخص کو ہلاک کیا جس نے گاڑی پولیس اہلکار پر چڑھانے کی کوشش کی ، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کا تعلق بارسلونا حملہ آوروں سے تھا یا نہیں۔
پولیس نے اس شخص کی تصویر بھی جارئی کی ہے جس کے کاغذات کے مطابق بارسلونا حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سپین میں سیاحت اپنے عروج پر ہوتی ہیں گزشتہ برس سے جولائی کے بعد یورپ میں کیے جانے والے حملوں کے دوران اسی طرح پیدل چلنے والے لوگوں پر گاڑیاں چڑھائی گئیں ۔ سپین کے وزیر اعظم نے بارسلونا کے دورے پر تین روز سوگ کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ دہشت گرد وں کو ہم نے اتحاد سے شکست دے دی ہے ۔
امریکہ حملے کے بعد تحقیقات کے لیے سپین کو اپنے تعاون کی پیشکش بھی کئی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے دہشت گرد جان لیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا ارادہ کرلیا ہے ۔ شام ہونے والے اس واقعے کے بعد سیاحوں اور مقامی لوگوں نے دوکانوں اور ہوٹلوں میں پناہ لی۔ یہ تنظیم کی جانب سے لندن ، نیس ،برلن، سٹاک ہوم کے بعد یورپ میں کیا جانے والا تازہ ترین حملہ ہے۔
خبر رساں ادارے روکٹر کا کہنا ہے کہ ایمرجینسی سروسز نے مقامی میٹرو اور ٹرین سٹیشنوں کو بند کرنے کی درخواست کی ہے۔
اخبار ایل پیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور وین کو درجنوں لوگوں سے ٹکرانے کے بعد پیدل فرار ہوگیا تھا ۔ اسی علاقے میں کام کرنے والے سٹیون ٹرلزن نے بتایا، لارمبلاس میں میرے دفتر سے لوگوں نے وین کو پیدل چلنے والے افراد سے ٹکراتے دیکھا۔
میں نے تین یا چار لوگوں کو زمین پر لیٹے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں بہت ساری ایمبولینس اور مسلح پولیس اہلکار موجود ہیں ۔ بارسیلونا کی 20 سالہ رہائیشی مارک بیسپرشیا نے میڈیا کو بتایا ایک زور دار آواز تھی ۔ اور ہر کوئی حفاظت کے لیے بھاگا ۔ وہاں ہبت سے لوگ تھے بہت سے خاندان یہ بارسیلونا کی سب سے مشہور جگہ ہے۔اسکا کہنا تھا کہ میرے خیال سے بہت سارے افراد ٹکرائے ہیں ۔
یہ خوف ناک تھا وہ خوف کی صورت حال تھی خوفناک یورپ میں اس سے قبل گذشتہ سال جولائی سے شدت پسند کی جانب سے ہجوم سے گاڑیاں ٹکرانے کے واقعات پیش آچکے ہیں ۔
سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک اور سینی شاہد عامر انور نے بتایا کہ وہ لارمبلاس کی جانب جارہے تھے جو جہ سیاحوں سے بھڑا ہوا تھا ۔ اچانک میں نے گاڑی ٹکرانے کی آواز سنی اور اس جگہ پر موجود ہر کوئی چیختے چلاتے بھاگنے لگا ۔
میں نے ایک خاتو ن کو دیکھا جوکہ اپنے بچوں کو پکاررہی تھیں ۔ سپین کی سب سے اہم سیاسی مقام بارسلونا میں اجتحاج کے بعد وہاں جانے والے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ شہر کے ہوائی اڈے پر پہنچنے والوں کو وہاں جاری عدم استحکام کا اندازہ ہوائی اڈئے پر لگے پوسٹر ز سے ہوگا ۔مگر وہاں ہاتھ اٹھائے مظاہرین ہوائی اڈئے ہڑتال کرنے والے ملازمین ہونے کا امکان زیادہ ہے جوکہ بہتر تنخواہ اور مراعات کے لیے اجتحاج کررہے ہیں ۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہسپانوی سول گارڈ کو مدعو کرلیا گیا ہے ۔تاہم صورتحال میں بہتری نہیں آئی ۔ سیاہ جب شہر میں پہنچے تو بہت امکان ہے۔ کہ انھیں سیاحت مخالف گرافیٹی یا پوسٹر نظر آئیں جن پ ر اکثر لکھا ہے کہ سیاحوں کی مانگ کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے مکانوں کے کرائے پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح کی مہمات سپین کے دیگر علاقوں میں بھی نظر آرہی ہیں سپین دنیا میں سیاحت کے حوالے سے تیسری بڑی منڈی ہے۔
ادھر برطانیہ میں ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن ایبٹا کے ترجمان کا کہنا کہ سیاحت یورپی شہروں کے لیے اقتصادی طور پر انتہائی اہم ہے ، اور گذشتہ چند سالوں میں وہ اور بھی اہم ہوگیا ہے ۔ زیادہ تر افراد یہ بات سمجھتے ہیں کہ سال کہ کچھ حصوں میں انہیں اپنے شہر کافی سارے سیاحوں کے ساتھ شیئر کرنے پڑیں گے ۔ ایبٹا اس مسئلے کا ذمہ دار ائیر بی اینڈ بی جیسی آن لائین سروسز کو ٹھہراتی ہیں جوکہ روایتی سیاحتی بزنس ماڈل کو نقصان پہچاتے ہیں اور غیر قانونی سیاحتی رہائش گاہوں کو فروغ دیتے ہیں ۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ پئیر ٹو پئیر اکانومی کی گذشتہ چند سالوں میں تیزی سے مقبولیت کی وجہ سے بہت سے شہروں میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہے اور اس سیکٹر میں قانون سازی کی کمی وجہ سے سیاحوں کی تعداد کا درست انداز میں اندازہ مشکل ہوگیا ہے۔ ہمیں ایسے نظام چاہیں جوکہ سیاحوں مقامی رہائیشوں اور سیاحتی بزنس تینوں کے مفادات کا خیال رکھیں ۔
منطقی لحاظ سے یہ نظام پئیر ٹو پئیر رہائیشوں اور ہوٹلوں میں ٹھرانے والے دونوں قسم کے سیاحوں کا خیال رکھے ۔ ایبٹا کا موقف درست بھی ہوسکتا ہے ۔ کچھ اندازے کے مطابق بارسلونا میں سیاحتی رہائش گاہوں میں سے 40 فیصد تک ایسے ہہے جنہیں حکام کی اجازت کے بغیر کرائے پر دیا جارہا ہے ۔ مگر اس کی وجہ سے ،مقامی لوگوں کے لیے قدرے قیمت رہائش ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے ادھر ٹوئر گائیڈ اپریٹر اور اور دیگر مقامی کاروباروں کا کہنا ہے کہ سیاحوں کے خلاف اجتحاج کے باوجود لوگوں کے آنے میں کمی نہیں ہوئی اور شاید سپین کی حکومت کو بھی یہی امید ہوگی ۔
کہ سیاحوں کی تعداد کم نہ ہو۔ گذشتہ سال سات کروڑ 50لاکھ سیاح سپین آئے اور 2017 میں توقع ہے کہ 83آٹھ کڑور 30لاکھ سیاح سپین جائے گے۔ سپین ابھی بھی 2007 کے عالمی مالیاتی بحران سے بہتری کی کوشش کررہا ہے اور سیاحت اس وقت انتہائی اہم ہے ۔ ٹریول ایجینسیوں کو سوفٹ وئر فراہم کرنے والی کمپنی ٹریک سافٹ کا اہم عہدیدار لوسی فگل حالیہ بحران کو اس بات کی عندیہ سمجھتی ہیں کہ سیاحت کی صنعت کو تبدیل ہونا پڑئے گا ۔
یہ بحران پریشان کن ہے۔ مگر اقتصادی کی بجائے اس میں جذبات عنصر اہم ہے۔سیاحت جارئی رہ ے گی اس میں کوئی شک نہیں مگر ہم دیکھ رہے ہیں کچھ چیزوں کو تبدیل کرنا پڑے گا جیسے کہ بہتر قانون سازی اور مختلف شہروں کے درمیان پیسوں کا بہتر انداز میں بٹوار مظاہرین شاید اس سال سیاحوں کی تعداد پر اثر انداز نہیں ہوسکیں گے۔ سیاحوں کی تعداد میں اضافے عالمی اقتصادی فورسز کا نتیجہ ہیں ۔ ترکی تیونس اور مصر جیسی ماضی میں مقبول سیاحی مقامات مین سکیورٹی خدشات کے باعث سپین انتہائی پرکشش مقام بن گیا ہے ۔ مگر خیال کیا جارہا ہے کہ حالیہ مظاہرین کا اثر 2018 میں محسوس کیا جائے گا۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں