یہ ڈرون تھوڑا بڑا نہیں ہوسکتا تاکہ میں اس پر بیٹھ کر مکہ جا سکوں.

فریقہ کے ملک گھانا کے ایک دور دراز گاﺅں میں ترک چینل ٹی آر ٹی کی ٹیم ایک ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ کر رہی تھی کہ اسی دوران ان کا ڈرون کیمرہ گرگیا جو قریب ہی موجود بزرگ دیہاتی الحسن عبداللہ نے اٹھالیا۔ جب ترک صحافی ڈورن لینے پہنچے تو عبداللہ نے ان سے دلچسپ خواہش کا اظہار کردیا۔ عبداللہ نے کہا کہ ” کیا یہ ڈرون تھوڑا بڑا نہیں ہوسکتا تاکہ مجھے مکہ لے جائے“۔
ترک صحافی نے الحسن عبداللہ کی یہ خواہش تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر شیئر کردی جو ترک سوشل میڈیا پر تیزی سے وائر ہوگئی۔ جس کے بعد ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے نوٹس لیا اور عبداللہ کے لیے حج انتظامات کو ممکن بنا دیا- جمعہ کے روز اسے استنبول لایا گیا جہاں ترک سرکار اور رفاعی اداروں کے نمائندوں نے اس کا استقبال کیا-

عبداللہ استنبول پہنچ کر بہت خوشی محسوس کر رہے تھے اور بار بار اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے جس کی مدد سے ترکی نے اس کا خواب پورا کر دیا- ان کا کہنا تھا: “میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور میں ہر اس شخص کے لیے دعاگو ہوں جس نے میرے اس خواب کو تعبیر میری مدد کی- ترک ریاست کی مدد میرے لیے بہت قیمتی ہے اور مجھے یقین ہے اس سے مسلمانوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ مضبوط ہوگا”-

عبداللہ استنبول پہنچ کر بہت خوشی محسوس کر رہے تھے اور بار بار اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے جس کی مدد سے ترکی نے اس کا خواب پورا کر دیا- ان کا کہنا تھا: “میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور میں ہر اس شخص کے لیے دعاگو ہوں جس نے میرے اس خواب کو تعبیر میری مدد کی- ترک ریاست کی مدد میرے لیے بہت قیمتی ہے اور مجھے یقین ہے اس سے مسلمانوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ مضبوط ہوگا”-

اپنا تبصرہ بھیجیں