سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے آج پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ میں پانامہ عملدرآمد بنچ کے جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت ابتدائی بنچ سے جسٹس گلزار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ شامل ہیں۔
آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاخیر پر معذرت چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ججز نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل سنائیں گے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیپٹن (ر) صفدر اور اسحاق ڈار کو نا اہل قرار دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وزیر اعظم کے بچوں اور ان کے داماد سمیت خودوزیر اعظم نواز شریف کے خلاف نیب ہفتوں میں ریفرنس دائر کرے ۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے۔ عدات نے فوری طور پر نواز شریف کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا حکم بھی دیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔ سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے رینجرز اوع پولیس کی بھاری نفری کو سپریم کورٹ کے اطراف میں تعینات کیا گیا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کا فیصلہ گذشتہ ایک سال سے زیر سماعت تھا جس کا آج فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی ۔ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی نے ساٹھ روز ہ تحقیقات کے بعد 10جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے اپنی منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق مریم نواز آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی مالک ہیں۔
اور ان کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات جعلی ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے چئیرمین ہیں۔ جے آئی ٹی کی اس حتمی رپورٹ پر سپریم کورٹ کے تین رکنی پانامہ عملدرآمد بنچ نے جسٹس اعجاز ا کی سربراہی میں فریقین کے دلائل سنے اور دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے21جولائی کو پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ۔

Play online Games

اپنا تبصرہ بھیجیں