وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پانامالیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارت اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے اور سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا ہے‘ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست کو گالی بنادیا گیا ہے رومی شہنشاہوں کی طرح وزیراعظم کو خوشامدیوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے-کابینہ کی اہم اور حساس ترین خبریں اور اطلاعات لیک کی جاتی ہیں -میرے سمیت چار لوگ جانتے ہیں کہ ملک اس وقت شدید ترین خطرات میں ہے-میں حساس معاملات پر بات نہیں کرسکتا مگر صرف وزیراعظم سے صرف اتنا ہی کہونگا کہ آپ جانتے ہیں کہ دو سول اور دوفوجی شخصیات اس سے آگاہ ہیں کہ ہم کس قدر شدید خدشات سے دوچار ہیں-انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ آپ کے حق میں آیا تو آپ کو پاﺅں زمین پر رکھنا ہونگے‘بہت سارے لوگ آپ کو مشورہ دیں گے کہ فلاں کو لٹکا دو‘فلاں کو بھگا دو مگر اس وقت آپ کو برداشت دکھانا ہوگی اور فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں آپ کو کھلے دل سے اسے قبول کرنا ہوگا کیونکہ ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا-چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں ٹیلی پر آکر گالی‘گلوچ کرنے والوں سے گلہ نہیں کرتا مگر جاننا چاہتا ہوں کہ انہیں کون چلارہا ہے کیونکہ میاں نوازشریف کا تو یہ مزاج نہیں-انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی اہم فیصلہ لے چکے تھے اور اسی کا اعلان پریس کانفرنس میں کرنا چاہتے تھے مگر کچھ دوستوں کے دباﺅ پر میں نے فیصلہ کن پوزیشن نہ لینے کا فیصلہ کیا – انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس ان کی زندگی کی مشکل ترین پریس کانفرنس ہے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس سے متعلق کسی کو اطلاع نہیں دی یہ پریس کانفرنس وبال جان بن گئی تھی آج زندگی کی مشکل پریس کانفرنس ہے جس میں مختصر گفتگو کروں گا، سوالات کے جوابات نہیں دوں گا اور چند دنوں بعد میڈیا سے کھل کر بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں بہت سی باتیں کیں، کابینہ میں کی گئی کچھ باتیں غلط رپورٹ ہوئیں، میں کسی سے ناراض نہیں ہوں، نواز شریف اور پارٹی کے لیے اپنی ذات ایک طرف رکھ کر خدمت کی، پارٹی اور قیادت پر مشکل وقت ہے، ایسے وقت میں پارٹی سے کیوں الگ ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ 33 سال سے پارٹی کے ہر اجلاس میں شریک ہوتا ہوں، لیکن گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران اہم اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور میں بن بلائے کسی اجلاس میں نہیں جاتا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے کوئی ٹرین مس نہیں کی، کسی آوارہ ٹرین کا مسافر نہیں ہوں، پریس کانفرنس سے پہلے شہباز شریف، اسحاق ڈار اور سعد رفیق نے رابطہ کیا، اتوار اور پیر کی پریس کانفرنس میں بڑا اعلان کرنا تھا، اعلان تجزیوں کے مطابق ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ 1985 میں جو لوگ پارٹی بنانے میں نواز شریف کے ساتھ تھے ان میں صرف میں بچا ہوں، باقی سب لوگ یا تو پارٹی چھوڑ گئے یا دنیا چھوڑ گئے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑ سکتا، تمام عمر پارٹی قیادت کے سامنے سچ کہا ہے، لیکن جب مشکل ترین وقت آیا تو پھر سازش چلی اور مجھے مشاورتی عمل سے بھی الگ کر دیا گیا، کچھ لوگ دیکھ رہے تھے کہ جگہ خالی ہو جائے تو ہمارا راستہ بن جائے، حکمراں سے اصل وفاداری تو یہ ہے کہ انہیں حقیقت کے بارے میں بتایا جائے اور میاں صاحب نے بھی کہا کہ نہیں آپ اچھا کرتے ہیں، میں نے وزیر اعظم سے کہا آپ نے دوسروں کی باتیں کیوں سنیں، آپ مجھے بلا کر پوچھ لیتے لیکن جب حالات نہیں سنبھلے تو ایک انتہائی فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ ساری زندگی لگائی ہے تو پھر مشکل وقت پر اپنا منہ نہیں موڑ سکتا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران نے جو کہا تھا تھا ان میں کچھ باتیں صحیح طریقے سے باہر گئیں جب کہ کچھ کا تاثر غلط دیا گیا۔ میں کسی سے نارض نہیں ہوا۔ اس پارٹی کو نواز شریف نے اپنی محنت اور ثابت قدمی سے کھڑا کیا لیکن ان کے ساتھ اور بھی لوگ تھے اور ان میں سے ایک وہ بھی ہے، انہیں اس پر فخر ہے کہ وہ ان میں ایک ہیں جو اگلی صفوں میں کھڑے ہیں۔
شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ دوسری ٹرینیں انہیں مبارک،وہ کسی اور ٹرین کی سواری نہیں، خواہ وہ رکی یا چلی، جب سے سیاست کا آغاز کیا اس وقت سے ایک ہی ٹرین پر بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف ہر مقام پر پراپیگنڈا ہوا لیکن جس نے بھی کہا کہ نثار پارٹی نہیں چھوڑے گا اس سے بڑا ان کے لیے کوئی تمغہ نہیں۔ وہ 33 سال سے ہر میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہیں 3 میٹنگز کے لیے بلایا گیا لیکن اہم ترین مشاورتی اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور وہ بن بلائے کہیں نہیں جاتے۔
انہوں نے تمام عمر نواز شریف کے سامنے سچ کہنے کی جسارت کی، ان کا کردار نواز شریف کے ساتھ یہی ہے کہ اکثر نواز شریف سے کہہ دیتے تھے کہ رومن شہنشاہ اپنے ارد گرد لوگوں کو کھڑے رکھتے ہیں۔پاناما لیکس کے حوالے سے چوہدری نثار کو وزیر اعظم کی حکمت عملی پر شدید تحفظات تھے۔ وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں انہوں نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد وہ وزیر اعظم کے کسی مشاورتی اجلاس میں نہیں گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں